Iqbal-Jinnah-Faiz Unity Center

We the people of Pakistan are a diverse people, living in a country that was an answer to a prayer and a dream come true for our forefathers seven decades back. Someone dreamt for a free state for the welfare and well being of a people known as Pakistanis today and somebody took it as a duty to materialize this dream. And once the dream got materialized, someone spoke through his poetry for the dignity of common man in the face of tyranny. Allama Iqbal, Quaid-e- Azam Muhammad Ali Jinnah and Faiz Ahmed Faiz are three icons of our history, held in high esteem by us all. We Pakistanis may have conflicting world-views, we might lock our horns on how our country should be governed and society be shaped but we all agree on the insurmountable debt we owe to these giants of our history, Iqbal, Jinnah and Faiz.

Despite all our disharmony and jangling discords, we can agree on one point. We have somewhat lost track of the direction envisioned by our forefathers and these three icons of our history. Despite all our differences we do agree on the fact that we need to work harder and work smarter to make Pakistan a better place to live

IJF at United for better Pakistan stands for resolute and unwavering commitment to the ideals of these greatest visionaries of our nation. We believe in turning these ideals into living realities and tangible results. We will get this accomplished by reforming our systems and liberating Pakistan’s downtrodden masses from the quagmire of bad governance, poverty and deprivation.  We will put our commitment into action by working for a meticulously planned constitutional package, called Jinnah’s amendment. Jinnah’s amendment is the fruit of years of hard work by some of the brightest minds of our nation. We own this commitment to the ideals of our greatest visionaries as our mission statement.

۔ ان دہکتے ہوئے شہروں کی فراداں مخلوق کیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہے یہ حسیں کھیت پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا کس لئے ان میں فقط بھوک اگا کرتی ہے
۔ تو قادروعادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندہء مزدور کے اوقات
۔ "اگر ہم اس عظیم ملک پاکستان کو خوش اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنا پڑے گ" ۔
یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک ، اس خوں میں حرارت ہے جب تک اس دل میں صداقت ہے جب تک ، اس نطق میں طاقت ہے جب تک ان طوق و سلاسل کو ہم تم ، سکھلائیں گے شورش- بربط و نے وہ شورش جس کے آگے زبوں ہنگامہء طبل- قصر و کے
غم زدائے دل افسردہ دہقاں ہونا رونق بزم جوانان گلستاں ہونا
۔ "اگر ہم ااگر ہم اس عظیم ملک پاکستان کو خوش اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنا پڑے گی س عظیم ملک پاکستان کو خوش اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنا پڑے گی" ۔
۔ اے خاک نشینوں اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آ پہنچا ہے جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
بندہء مزدور کو جا کر مرا پیغام دے خضر کا پیغام کیا ، ہے یہ پیام- کائنات اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمایہ دار- حیلہ گر شاخ- آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات
میں اپنا کام پورا کر چکا ہوں ۔ قوم کو جس چیز کی ضرورت تھی وہ اسے مل گئی ہے ۔ اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اسے تعمیر کرے
جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے
۔ نگر کی جانوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور جات
ہم جتنی زیادہ تکلیفیں سہنا اور قربانیاں دی سیکھیں گے، اتنی ہی زیادہ پاکیزہ ، خالص اور مضبوط قوم کی حیثیت سے ابھریں گے جیسے سونا آگ میں جل کر کندن بن جاتا ہے
جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں ناتوانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب بازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں
جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں ناتوانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب بازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں
۔پاکستان میں ہر شخص کا معیار- زندگی اتنا بلند کیا جائے گا کہ غریب اور امیر میں کوئی تفاوت باقی نہیں رہے گا ۔ پاکستان کا اقتصادی نظام اسلام کے غیر فانی اصولوں پر ترتیب دیا جائے گا اور ان اصولوں پر جنہوں نے غلاموں کو تخت و تاج کا مالک بنا دیا تھا
عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی یاس حرماں کے ، دکھ درد کے معنی سیکھے زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے
خورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شرر میں آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں جنت تری پنہاں ہے ترے خون- جگر میں اے پیکر- گل کوشش- پیہم کی جزا دیکھ !
کوئی قوم جدوجہد اور قربانیوں کے بغیر آزادی حاصل نہیں کر سکتی
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بول زباں اب تک تیری ہے تیرا ستواں جسم ہے تیرا بول کہ جاں اب تک تیری ہے
امرا نشہ دولت میں غافل ہم سے زندہ ہے ملت- بیضا غربا کے دم سے
ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو
جس خاک میں مل کر خاک ہوئے ، وہ سرمہء چشم- خلق بنی جس خار پہ ہم نے خوں چھڑکا ، ہم رنگ- گل- طناز کیا
۔ فروغ کہکشاں کو ناز ہے جن کی جبینوں پر یہ تلقین- خودی پیدا کی وہ نوجواں تو نے انہی کے زور- بازو سے ہے اب گردش زمانے کی بدل کر رکھ دیا آخر مزاج- آسماں تو
ایک مرتبہ کسی شخص نے قائداعظم کو مخاطب کرتے ہوئے " شاہ- پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا " تو آپ نے فرمایا: " دیکھئے آپ لوگوں کو اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ پاکستان میں کوئی بادشاہ نہیں ہوگا ۔ وہ مسلمانوں
سالہا سال یہ بےآسرا جکڑے ہوئے ہاتھ رات کے سخت و سیہ سینے میں پیوست رہے جس طرح تنکا سمندر سے ہے سرگرم- ستیز جس طرح تیتری کہسار پہ یلغار کرے
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرا دل ہمیشہ غرباء کے ساتھ ہے اور ان کے لئے ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جوں جوں وقت گزرتا جائے گا غریب محسوس کرتے جائیں گے کہ میں ان کا خادم ہوں ۔ اگر میں کامیاب ہو گیا تو اس امر سے کمال مسرت ہوگی اور یہ میرے لئے ایک انعام ہوگا کہ غرباء کا معیار- معیشت بلند ہوگا ۔ ہماری جدوجہد کا مقصد یہی ہے کہ ہم غرباء کے لئے ہر ممکن جدوجہد کر سکیں
جسم پہ قید ہے ، جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے ، گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
جسم پہ قید ہے ، جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے ، گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
پاکستان میں کسی ایک طبقے کی لوٹ کھسوٹ اور اجارہ داری نہیں ہوگی ۔ پاکستان میں بسنے والے ہر شخص کو ترقی کے برابر مواقع میسر ہوں گے ۔ پاکستان امیروں ، سرمایہ داروں ، جاگیرداروں اور نوابوں کی لوٹ کھسوٹ کے لئے نہیں بنایا گیا ۔ یہ غریبوں کی قربانیوں سے بنا ہے ، غریبوں کا ملک ہے اور اس پر غریبوں کو حکومت کا حق ہ
Previous
Next

علم کردار اور خوشحالی قائد کی نظر میں

Previous
Next

علم ،کردار اور خوشحالی اقبال کی نظر میں

Previous
Next

علم, کردار اور خوشحالی فیض کی نظر میں

Previous
Next